الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ خِصَالٍ مِنْ كِبْرِيَاتِ الْمَعَاصِي مُجْتَمِعَةٍ وَوَعِيدِ فَاعِلِهَا باب: مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
حدیث نمبر: 9678
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔