الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ خِصَالٍ مِنْ كِبْرِيَاتِ الْمَعَاصِي مُجْتَمِعَةٍ وَوَعِيدِ فَاعِلِهَا باب: مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔