حدیث نمبر: 9675
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔

وضاحت:
فوائد: … کبیرہ گناہ: ہر وہ گناہ جس کو شریعت میں کبیرہ قرار دیا گیا ہو، یا جس پر اللہ تعالیٰ نے آخرت میں عذاب، غضب اور لعنت کی دھمکی دی ہو، یا جس پر دنیا میں حد لاگو ہوتی ہو، یا جس سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہو یا جس کے مرتکب کو فاسق قرار دیا گیا ہو۔
اصل بات پہلی ہے کہ کتاب و سنت میں جس جس گناہ کو کبیرہ کہا گیا ہے وہ کبیرہ ہے باقی گناہوں کے بارے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبیرہ ہے یا صغیرہ۔ کیونکہیہ خالصۃً دینی معاملہ ہے جس کے بارے قیاس و رائے سے بات کرنی مناسب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5977، ومسلم: 88 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12361»