حدیث نمبر: 9674
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْرِقُ حَيْنَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي حَيْنَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حَيْنَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَغُلُّ حَيْنَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ حَيْنَ يَنْتَهِبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَقَالَ عَطَاءٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ بَهْزٌ فَقِيلَ لَهُ قَالَ إِنَّهُ يُنْتَزَعُ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث زانی، شرابی، چور اور ڈاکو کے حق میں سخت وعید پر مشتمل ہے، مسلمانوں کو ایسے جرائم سے گریز کرنا چاہیے، جن کی بنا پر ایمان کی نفی کر دی جاتی ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مجرم کامل ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، جیسا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا زَنٰی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ اْلإِیْمَانُ وَکَانَ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْھَا رَجَعَ إِلَیْہِ اْلإِیْمَانُ۔)) (ابوداود: ۴۶۹۰، صحیحہ:۵۰۹) … جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان (کا نور) نکل جاتا اوراس کے اوپر سائبان کی طرح (منتظر) رہتا ہے، جب وہ باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اہل السنۃ نے اس حدیث کییہ تاویل کی ہے کہ ایسا آدمی مکمل ایمان والا نہیں رہتا، اس کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، یعنی زانی، شرابی، چور اور ڈاکو مکمل ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حدیث احناف کے مخالف حجت ہے، جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر مصرّ ہیں کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ان کے نزدیک ایمان کا ایک مرتبہ ہے، وہ ناقص ایمان کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب الزاہد الکوثری حنفی نے اس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔
ابن بطال نے کہا: اہل السنہ نے اس حدیث میں ایمان کی نفی کو کامل ایمان کی نفی پر محمول کیا ہے، کیونکہ نافرمان مومن کے ایمان کی حالت نافرمانیاں نہ کرنے والے مومن سے کم تر ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: محقق علمائے کرام کا خیالیہ ہے کہ جو آدمی ان برائیوں کا ارتکاب کرے گا، وہ کامل الایمان نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں نفی کے سیاق میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے مراد سرے سے ایمان کی نفی نہیں، بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے۔ یہی رائے راجح ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ملا علی قاری حنفی نے (المرقاۃ: ۱/۱۰۵) میں اس حدیث کی وہی تفسیر بیان کی، جو ابن بطال اور امام نووی نے کی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے اصحاب نے بھی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کامل مومن مراد لیا ہے۔
پھریہ بھی کہہ دیا: لیکن ایمان کا اطلاق تصدیق پر ہوتا ہے اور اعمال اس سے خارج ہیں۔ ملاعلی قاری کا یہ آخری فیصلہ، سابقہ تاویلوں کے مخالف ہے۔ آپ خود سوچ لیں۔ (صحیحہ: ۳۰۰۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9674
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مختصرا البخاري: 2475، 6772، ومسلم: 57 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8995»