حدیث نمبر: 9671
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ لَهَا بَابٌ وَلَا كُوَّةٌ لَخَرَجَ عَمَلُهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ایسی سخت چٹان میں عمل کرے، جس کا دروازہ ہو نہ روشندان، تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے، وہ جس قسم کا بھی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … مشاہدہ یہی ہے کہ کسی بندے کا نیک عمل مخفی نہیں رہتا، وہ عامل کی زندگی میں لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے، یا اس کی وفات کے بعد، جب نیک شخصیات کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لوگوں کو اس کی برائیوں کا علم نہ ہو سکے۔
دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9671
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، دراج بن سمعان ضعيف في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1378، وابن حبان: 5678 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11230/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11248»