حدیث نمبر: 9664
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ لَيْسَ ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلُهُ سَوَاءٌ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ لَيْسَ حَدِيثٌ أَشَدَّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ ((لَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةً مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) عبید اللہ قواریری کہتے ہیں: یہ حدیث جہمیہ پر سب سے زیادہ سخت ہے: اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو۔

وضاحت:
فوائد: … جہمیہ سے مراد جہنم بن صفوان کے پیروکار ہیں، ان کا ایک نظریہیہ تھا کہ انسان نہ کسی چیز پر قدرت رکھتا ہے اور نہ وہ استطاعت سے متصف ہے، بلکہ وہ اپنے اقوال و افعال میں تقدیر کے سامنے مجبور ہے، اس معاملے میں اس کا ذاتی اختیار کوئی نہیں ہے۔
جہمیہ انسان کو مجبور محض سمجھتے ہیں۔ اگر آدمی مجبور محض ہو تو نہ اس کی تعریف ہوسکتی ہے اور نہ اسے جنت کی خوشخبری دینے کا کوئی فائدہ ہے۔ جبکہ حدیث میں اللہ کی طرف سے جنت کے وعدہ کا تذکرہ ہے۔ اس لیےیہ حدیث ان کے جبریہ نظریہ کے سخت خلاف ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9664
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18353»