الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ خِصَالٍ مِنْ كِبْرِيَاتِ الْمَعَاصِي مُجْتَمِعَةٍ وَوَعِيدِ فَاعِلِهَا باب: مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
حدیث نمبر: 9660
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَغَارُ قَالَ ((وَاللَّهِ إِنِّي لَأَغَارُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ غَيْرَتِهِ نَهَى عَنِ الْفَوَاحِشِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا آپ غیرت نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں غیرت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور یہ اس کی غیرت کا ہی تقاضا ہے کہ اس نے گندے کاموں اور بدکاریوں سے منع کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کے حرام کردہ امور سے اجتناب کریں اور فرائض و مستحبّات پر عمل کریں۔