حدیث نمبر: 9659
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يَلْقَ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدے کی طرح نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو خبر دی کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے ساتھ یہ کچھ کر دیا ہے، تو انھوں نے تختیوں کو نہیں پھینکا، لیکن جب انھوں نے اپنی قوم کے کیے کو دیکھا تو پھر تختیاں ڈال دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان دیکھنے اور سننے میں فرق محسوس کرتا ہے، ابراہیم علیہ السلام کتنے جلیل القدر پیغمبر تھے، ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ ان کی ایمانی اور اعتقادی کیفیت و کمیت کیا ہو گی، لیکن انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا: {وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُرَبِّاَرِنِیْ کَیْفَ تُـحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَیِنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تو نے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ فرمایا پھر چار پرندے پکڑ اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کر لے، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے، پھر انھیں بلا، دوڑتے ہوئے تیرے پاس آجائیں گے اور جان لے کہ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ بقرہ: ۲۶۰)
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۸۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9659
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 321، وابن حبان: 6213 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2447»