حدیث نمبر: 9658
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ((بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبد اللہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زَعَمُوْ ا کے متعلق کیا فرماتے سنا ؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زَعَمُوا آدمی کی بری سواری ہے، (یعنی براتکیہ کلام ہے)۔

وضاحت:
فوائد: … زَعَمُوْا کے لفظی معانییہ ہیں: انھوں نے گمان کیا، ان کا خیال ہے،انھوں نے جھوٹ بولا، انھوں نے کہا، انھوں نے بے حقیقت دعوی کیا، انھوں نے یقین رکھا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کو وہی بات یا حدیث بیان کرنی چاہیے جس کے سچا ہونے کا یقین ہو، ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْیُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔)) … آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے، اسے (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کردے۔ (مسلم)
چونکہ عصر حاضر میں لوگوں میں گپ شپ لگانے، باتوں کے بتنگڑ بنانے اور دنیا کے مختلف خطوں اور ان کے باسیوں کے تذکرے کرنے کی جنون کی حد تک رغبت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی بات کو سہارا دینے کے لیےیوں کہتے ہیں: آج بازار میں یہ بات ہو رہی تھی، لوگوں کو یہ بات کہتے ہوئے سنا گیا ہے، فلاں اخبار میں اس قسم کی بات شائع ہوئی ہے۔ یہ انداز زَعَمُوا کا مصداق ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں زَعَمُوْا کے کلمے کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے، اگرچہ یہ قَالَ کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن مجید میں جہاں مذموم اقوام کے مذمت والے امور کا تذکرہ کیا گیا، وہاں اس لفظ کا استعمال ہوا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا } (سورۂ تغابن: ۷) اس کے بعد کہا گیا: {بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ} (سورۂ تغابن: ۷) اس قسم کی کئی آیات ہیں۔
امام طحاوی نے بعض آیات ذکر کرنے کے بعد کہا: ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مذموم قوموں کے مذموم حالات اور ان کی جھوٹی باتوں کا ذکر کیا۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کیا گیا ہے کہ وہ اخلاق و ادیان اور اقوال و افعال میں قابل مذمت لوگوں کی عادات کو اپنائیں۔ اہل ایمان کو تو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اخلاق، ان کے قابل تعریف منہج اور سچے اقوال کو اسوہ بنائیں جو ایمان کی حالت میں سبقت لے جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔
امام بغوی نے شرح السنۃ: ۱۲/ ۳۶۲ میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کی مذمت اس لیے کی ہے، کہ زیادہ تر اس لفظ کا استعمال ایسی باتوں کے لیے ہوتا ہے، جو زبانوں پر مشہور ہوتی ہیں، لیکن ان کی کوئی سند یا ثبوت نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کو سواری سے تشبیہ دی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس لفظ کے ذریعے اپنی مقصود بات تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ ماحصلیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں بیانات و روایات میں تحقیق کرنے کا حکم دے رہے ہیں،یعنی اگر کوئی شخص حدیث بیان کرنا چاہتا ہے تو صرف ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث روایت کرنی چاہئیں، وگرنہ وہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق بن جائے گا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔ (صحیحہ: ۸۶۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9658
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17203»