الفتح الربانی
كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات— ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس
خَاتِمَةٌ فِي أَحَادِيثَ جَرَتْ مَجْرَى الْمِثَالِ باب: خاتمہ: مثال کے طور پر بیان کی جانے والی باتیں
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِنَّ طَوِيلًا ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنْ أَعَاجِيبَ فَقَالَ النَّاسُ حَدِيثُ خُرَافَةَ))۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات اپنی بیویوں کو ایک بات بیان کی، ایک ام المؤمنین نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ یہ بات تو حدیث ِ خرافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تم جانتی ہو کہ خرافہ کیا ہے؟ خرافہ عذرہ قبیلے کاآدمی تھا، جنوں نے اس کو جاہلیت میں قید کر لیا تھا، وہ کافی عرصہ تک جنوںمیں رہا، پھر وہ اس کو انسانوں میں چھوڑ گئے تھے، تب وہ لوگوں کو جنوں کی عجیب عجیب باتیں بیان کرتا تھا، اس کو لوگ حدیث ِ خرافہ کہتے تھے۔