حدیث نمبر: 9650
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ أَنَّ أُخْتَهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَتْ أُخْتِي غَزَوْتُ مَعَهُ سِتَّ غَزَوَاتٍ قَالَتْ كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى فَسَأَلَتْ أُخْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ فَقَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَسَأَلْتُهَا أَوْ سَأَلْنَاهَا هَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا إِلَّا قَالَتْ بِيَبَا فَقَالَتْ نَعَمْ بِيَبَا قَالَ لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوْ قَالَتْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى فَقُلْتُ لِأُمِّ عَطِيَّةَ الْحَائِضُ فَقَالَتْ أَوَ لَيْسَ يَشْهَدْنَ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: ہم اپنی نوجوان عورتوں کو نکلنے سے منع کرتی تھیں، ایک خاتون آئی، بنوخلف کے محل میں اتری اور یہ بیان کیا کہ اس کی بہن، ایک صحابی کی بیوی تھی، اس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوے کیے تھے، میری بہن نے کہا: میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے، ہم زخمیوں کا علاج اور بیماروں کی نگہداشت کرتی تھیں، میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: جس عورت کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو عید کے لیے نہ جانے کی صورت میں اس پر کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی سہیلی اس کو چادر دے دے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرے۔ پھر جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا تھا، انھوں نے کہا: جی ہاں ، وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو بِیْبًا کہتی تھیں، اس لیے انھوں نے کہا: بِیْبًا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوجوان اور پردہ نشین، بلکہ حائضہ عورتیں بھی نکلیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ خواتین جائے نماز سے دور رہیں۔ میں نے سیدہ ام عطیہ سے کہا: حائضہ بھی؟ انھوں نے کہا: کیا حائضہ عورت حج کے موقع پر عرفہ اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جاتی۔

وضاحت:
فوائد: … مجاہدین اور ان میں سے زخمی اور بیمار ہو جانے والے افراد کی خدمت کے لیے بعض خواتین جا سکتی ہے۔
بِیْبًا کے معانی ہیں:میں ان پر اپنا باپ قربان کرتا ہوں یا میرا باپ ان پر قربان ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1652، ومسلم: 890 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21070»