حدیث نمبر: 9645
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے مسلم عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ان گھروں والے افراد میں بڑی محبت پائی جاتی ہے، جو اس حدیث ِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی قیمتی چیز پکائی جائے تو گھر والے سمجھتے ہیں کہ ہمسائیوں کی دینے کی گنجائش ہی نہیں ہے، جب کوئی عام چیز پکائی جاتی ہے تو اس کو ہمسائے کے مناسب سمجھا جاتا ہے، آہستہ آہستہ تعلق کم ہوتا رہتا ہے اور بالآخر کسی کو اس کے ہمسائے کی خوشی اور دکھ کا کوئی احساس ہی نہیں رہتا، جبکہ ہمسائیوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9645
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10407»