الفتح الربانی
كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات— ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس
بَاب مَا جَاءَ فِي الْعُشَارِيَّاتِ وَمَا زَادَ عَنْهَا باب: عشاریات اور اس سے بھی زائد امور کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ اتَّزِرُوا وَارْتَدُوا وَانْتَعِلُوا وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِيلَاتِ وَأَلْقُوا الرُّكُبَ وَانْزُوا نَزْوًا وَعَلَيْكُمْ بِالْمَعَدِّيَّةِ وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ وَذَرُوا التَّنَعُّمَ وَزِيَّ الْعَجَمِ وَإِيَّاكُمْ وَالْحَرِيرَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ وَقَالَ لَا تَلْبَسُوا مِنَ الْحَرِيرِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تہبند باندھا کرو، چادر اوڑھا کرو اور جوتے پہنا کرو اور موزوں اور شلواروں کو ترک کر دو، اسی طرح (سواریوں سے) رکاب بھی پھینک دو اور کود کر چڑھا کرو، معد بن عدنان کی طرح کی زندگی گزارو، نشانوں پر تیر پھینکا کرو، عیش پرستی اور عجموں کے فیشن اپنانے سے بچو اور ریشم سے بھی دور رہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریشم نہ پہنا کرو، مگر اتنا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔
ہوئے، ان کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! اپنی داڑھیوں کو سرخ اور زرد کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی!اہل کتاب شلواریں پہنتے ہیں، تہبند نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شلواریں بھی پہنو اور تہبند بھی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں لمبی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ (مسند احمد: ۲۲۶۳۹)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قوت اور نشاط برقرار رکھنے کے لیے رکاب کے استعمال سے منع کیا۔
معد بن عدنان، عربوں کا دادا تھا،یہ تنگ دستی اور سختی والی زندگی گزارنے والا تھا، اس جملے میں دراصل خوشی عیشی سے منع کیا جا رہا ہے، جس کی مفسدت ظاہر ہیں۔
مختلف شارحین نے عجموں کی مختلف قبیح عادتیں بیان کی ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں: عورتوںکا سینے اور سرکو ننگا رکھنا، سرخ رنگ کی گدیاں اور لباس اور گدیوں کے لیے ریشم استعمال کرنا، عمدہ اور باریک لباسوں کا اظہار کرنا، تنگ لباس پہننا، خوشحالی اور عیش پرستی پر بہت توجہ دینا۔
اصل قانون یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شریعت میں تمام عبادات اور جائز و ناجائز معاملات کا تعین کر دیا ہے، بس ان ہی کا پابند رہا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عربوں اور عجمیوں کی تہذیبوں میں واضح فروق تھے، اب تو عربوں کی عیش پرستی اور معصیتوں کا سلسلہ بھی بہت آگے بڑھ گیا ہے۔