الفتح الربانی
كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات— ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس
بَاب مَا جَاءَ فِي الْعُشَارِيَّاتِ وَمَا زَادَ عَنْهَا باب: عشاریات اور اس سے بھی زائد امور کا بیان
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَعْرُوفِ فَقَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ صِلَةَ الْحَبْلِ وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ شِسْعَ النَّعْلِ وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَلَوْ أَنْ تُنَحِّيَ الشَّيْءَ مِنْ طَرِيقِ النَّاسِ يُؤْذِيهِمْ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْطَلِقٌ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَلَوْ أَنْ تُؤْنِسَ الْوَحْشَانَ فِي الْأَرْضِ وَإِنْ سَبَّكَ رَجُلٌ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ فِيهِ نَحْوَهُ فَلَا تَسُبَّهُ فَيَكُونَ أَجْرُهُ لَكَ وَوِزْرُهُ عَلَيْهِ وَمَا سَرَّ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاعْمَلْ بِهِ وَمَا سَاءَ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاجْتَنِبْهُ۔ ابو تمیمہ ہجیمی اپنی قوم کے آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ کے کسی راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی کے بارے میںپوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نیکی سر انجام دینے کو معمولی خیال نہ کرنا، اگرچہ (وہ نیکی یہ ہو کہ تو کسی کو)رسی کا عطیہ دے دے، کسی کو جوتے کا تسمہ ہبہ کر دے،اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی ڈال دے، لوگوںکے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے،اپنے بھائی کو خندہ پیشانی کے ساتھ ملے، اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت سلام کہہ دے، خوف و گبھراہٹ میں مبتلا آدمی کا دل بہلا دے، اگر کوئی آدمی تیری کسی ایسی خامی کی بنا پر تجھے برا بھلا کہے، جس کو وہ جانتا ہے تو تو اس کو اس کے عیب کی بنا پر برا بھلا مت کہے، اس کاروائی کا اجر تیرے لیے ہو گا اور گناہ اس پر ہو گا، تیرا کان جس چیز کو سننا پسند کریں، اس پر عمل کر اور تیرے کان کو جس چیز کو سننا برا لگے، اس سے اجتناب کر۔