حدیث نمبر: 9633
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ بِهِ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمَيْثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں کا حکم دیا، وہ یہ تھیں: بیمار کی تیمارداری کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں سے منع فرمایا، وہ یہ تھیں: چاندی کے برتن، سونے کا کڑا، استبرق، ریشم، دیباج، ریشم و دیباج سے آراستہ سوارییا کشتی، قسِّیّ۔

وضاحت:
فوائد: … دیباج: ریشمی قیمتی کپڑا جس کا تانا بانا ریشم کا ہوتا ہے۔ استبرق سے مراد موٹا ریشم ہے۔
قسِّیّ: یمن کی ایک بستی کا نام قَسّ ہے، اس میں ایک کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اس پر ریشمی پٹیاں لگائی جاتی ہیںیا اس کا تابا یا اس کا بانا ریشم کا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کپڑا ریشم کی ملاوٹ کی وجہ سے حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9633
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1239، 2445، 5650، 5863، ومسلم: 2066 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18698»