حدیث نمبر: 9625
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيزَهُ وَتَوْقِيرَهُ أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَيَسْلَمُ النَّاسُ مِنْهُ وَيَسْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں کی نصیحت کی کہ جو آدمی ان میں سے ایک کام کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ضامن ہو گا، جو مریض کی تیمار داری کرے، یا جنازے کے ساتھ نکلے، یا اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلے، یا حکمران کی تائید اور توقیر کے لیے اس کے پاس جائے، یا پھر اپنے گھر میں بیٹھا رہے، تاکہ لوگ اس سے سالم رہیں اور وہ لوگوں سے سالم رہے۔

وضاحت:
فوائد: … حکمران کی تائید و توقیر سے مراد یہ ہے کہ حق پر اس کا ساتھ دیا جائے۔
اگر کسی آدمی میں شرّ کا مقابلہ کرنے اور اس کو ہاتھ یا زبان سے روکنے کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ شرّ اور شرّ والوں سے دور ہو جائے، لیکنیہ فیصلہ کرنے والے کے ضروری ہے کہ وہ خود علم و فہم و بصیرت والا ہو یا اہل علم سے مشورہ کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه البزار: 1649، وابن خزيمة: 1495، وابن حبان: 372، والطبراني في الكبير :20/55 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22444»