الفتح الربانی
كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات— ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَاسِيَاتِ المَبْدُوهُ ةِ بِعَدَدِ باب: عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْخُذُ مِنْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ يَفْعَلُ بِهِنَّ قَالَ قُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّهُنَّ فِيهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرِ الضِّحْكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضِّحْكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورشمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے، اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آ ؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
پھر اسے کہا جائے گا کہ تیری ہر برائی کے بدلے تجھے نیکی دی جاتی ہے۔ یہ سن کر وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تو بڑے بڑے گناہ بھی کئے تھے، وہ تو مجھے نظر نہیں آ رہے۔
میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (ترمذی)
لیکنیہ واقعات انتہائی شاذ و نادر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے ہنسنے سے منع کیا، کیونکہ اس سے انسان کا دل مردہ ہو جاتا ہے اور خیر و بھلائی کے کاموں سے بے رغبت ہو جاتاہے۔