حدیث نمبر: 9622
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْخُذُ مِنْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ يَفْعَلُ بِهِنَّ قَالَ قُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّهُنَّ فِيهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرِ الضِّحْكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضِّحْكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورشمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے، اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آ ؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … محارم سے اجتناب کرنا صبر کی مشقت طلب صورت ہے، یہی عبادت ہے جس کے ذریعے انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ جب بندے کا نفس کسی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے، لیکن دوسری طرف جب وہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے نفسِ اَمّارہ کو شکست دیتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ مزید اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہونا، اپنے پڑوسیوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا اور اپنے بھائیوں کی خیر خواہی کرتے ہوئے پسند و ناپسند میں ان کو اپنے وجود کے قائم مقام سمجھنا، یہ ایسی نیکیاں ہیں جن سے دلی فرحت و انبساط نصیب ہوتاہے۔ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہنسی اور مسکراہٹ ثابت ہے، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس جنتی آدمی کو پہچانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ اس آدمی کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ حکم دیں گے: اس سے اس کے صغیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کر و اور کبیرہ گناہوں کا تذکرہ ہی نہ کرو۔ سو اسے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔
پھر اسے کہا جائے گا کہ تیری ہر برائی کے بدلے تجھے نیکی دی جاتی ہے۔ یہ سن کر وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تو بڑے بڑے گناہ بھی کئے تھے، وہ تو مجھے نظر نہیں آ رہے۔
میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (ترمذی)
لیکنیہ واقعات انتہائی شاذ و نادر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے ہنسنے سے منع کیا، کیونکہ اس سے انسان کا دل مردہ ہو جاتا ہے اور خیر و بھلائی کے کاموں سے بے رغبت ہو جاتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9622
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث جيّد، أخرجه الترمذي: 2305، وابن ماجه: 4217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8081»