حدیث کتب › الفتح الربانی › كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات
الفتح الربانی
كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات— ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّبَاعِيَّاتِ باب: رباعیات کا بیان
حدیث نمبر: 9608
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ مَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا، جو شکار کے پیچھے چل پڑا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنے میں پڑ گیا اور جو آدمی بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا، وہ اللہ تعالیٰسے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل نہیں بھرتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔
جو آدمی سلطانوں اور بادشاہوں کی بارگاہوں میں جا پھنسا، وہ حق سے دور اور باطل کے قریب ہو گیا، اب اسے اربابِ حکومت کی آنکھوں کے اشارے پر نقل و حرکت کرنا ہو گی، ان کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہو گی، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنے اوپر کیے گئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو حقیر سمجھے گا، بڑوں کے درباروں میں ہونے والی معصیات پر خاموش رہے گا، رفتہ رفتہ اسلامی غیرت ختم ہوتی جائے گی اور بالآخر ایسا شخص اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کا مصداق بن کر دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین نے بادشاہوں سے دور رہنے اور سادہ لوح عوام کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں عافیت سمجھی، اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بہترین نتائج سے سرفراز فرمایا اور آج بھی دنیا ان کے گیت گا رہی ہے۔
جو آدمی تبلیغ کے لیے حکمرانوں کے پاس جاتا ہے اور کسی معصیت کا ارتکاب کیے بغیر تبلیغ کے تقاضے پورے کر لیتا ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔
جو آدمی سلطانوں اور بادشاہوں کی بارگاہوں میں جا پھنسا، وہ حق سے دور اور باطل کے قریب ہو گیا، اب اسے اربابِ حکومت کی آنکھوں کے اشارے پر نقل و حرکت کرنا ہو گی، ان کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہو گی، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنے اوپر کیے گئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو حقیر سمجھے گا، بڑوں کے درباروں میں ہونے والی معصیات پر خاموش رہے گا، رفتہ رفتہ اسلامی غیرت ختم ہوتی جائے گی اور بالآخر ایسا شخص اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کا مصداق بن کر دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین نے بادشاہوں سے دور رہنے اور سادہ لوح عوام کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں عافیت سمجھی، اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بہترین نتائج سے سرفراز فرمایا اور آج بھی دنیا ان کے گیت گا رہی ہے۔
جو آدمی تبلیغ کے لیے حکمرانوں کے پاس جاتا ہے اور کسی معصیت کا ارتکاب کیے بغیر تبلیغ کے تقاضے پورے کر لیتا ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔