حدیث نمبر: 9607
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ((إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سے یوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9607
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25773»