حدیث نمبر: 96
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْإِثْمُ؟ قَالَ: ((إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ)) قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: ”گناہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکنے لگے تو اسے چھوڑ دے۔“ اس نے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکی تجھے خوش کر دے تو تو مومن ہو گا۔“

وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔
اس حدیث میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہی یا اتنا شعور نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکی یا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ عبیداللہ مبارکپوری صاحب نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے، ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے اپنے معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوی یا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔
ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا تھا اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق ایک پڑھے لکھے آدمی نے کہا کہ وہ تو فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور دوسرے آدمیوں کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیک یا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اس میں پنہاں نہیں ہے۔
عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کی فہرستیں تیار کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 96
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه عبد الرزاق: 20104، والطبراني في الكبير : 7539، والحاكم: 1/ 14، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22512»