حدیث نمبر: 9588
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا وَرَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں اور تین پسند، اس نے تمہارے لیے اِن چیزوں کو پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور یہ کہ تم اپنے امیروں کی خیرخواہی کرو اور تمہارے لیےیہ چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔

وضاحت:
فوائد: … امراء کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔
مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔
سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1715 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8316»