حدیث نمبر: 9581
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اُس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہِ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہوگا کہ جس کے شرور سے اُس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … دل، زبان اور اعضائ، ہر ایک کے ساتھ ایمان کا تعلق ہے۔
اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کی راستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کی خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9581
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن مسعدة الباھلي، أخرجه البيھقي في الشعب : 5005، والطبراني في الاوسط : 6559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13079»