حدیث نمبر: 9566
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ ثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ زُهَيْرٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نیک سیرت اور مناسب وقار و تمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نہ نبوت کے اجزاء بنائے جا سکتے ہیں اور نہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان صفات سے متصف آدمی پچیسویں درجے کا نبی ہوتا ہے یا اس کے اندر کا پچیسواں حصہ پایا جاتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی درج ذیل توجیہات کی جا سکتی ہیں: ۱۔ یہ صفات انبیائے کرام کے فضائل کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۲۔ انبیائے کرام جو شریعت لائے اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی،یہ صفات اس کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۳۔ ان صفات سے متصف آدمی اس چیز کا حقدار ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس مقدار کے مطابق تقوی کا لباس پہنا دے۔
بہرحالیہ صفات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہیں کہ اس نے انبیائے کرام کو ان سے متصف کیے رکھا، اس لیے ہمیں بھی خصالِ حمیدہ سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9566
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 12608، والبيھقي في الشعب : 6555 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2698»