حدیث نمبر: 9561
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ تمہارے بد ترین لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہی جملہ دوہرایا، بالآخر ایک بندے نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید رکھی جاتی ہو اور تم میں بدترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید نہ رکھی جاتی ہو اور جس کے شرّ سے امن بھی نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کے وجود میں خیر بھی ہو اور وہ ایسا خیر رساں بھی ہو کہ کسی کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو، ہر کوئی اس اپنی جان و مال او رعزت و عظمت کا محافظ سمجھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8798»