حدیث نمبر: 9555
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کسی آدمی کو اس طرح کہتے سنے کہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: یہ کہنا کہ لوگ تباہ ہو گئے ہیں، اس شخص کے لیے منع ہے، جو اپنے آپ کو اچھا سمجھے، لوگوں کو حقیر گردانے اور ان پر اپنے آپ کو برتر خیال کرے۔ لیکن جو شخص یہ دیکھتا ہے کہ لوگوں میں دینداری کم ہو گئی ہے اور اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دینی غیرت و حمیت کی وجہ سے یہ الفاظ اس کی زبان پر آجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ امام مالک بن انس، امام حمیدی اور امام خطابی جیسے علماء نے اس حدیث کییہی تفصیل بیان کی ہے۔ (ریاض الصالحین)
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نہ صرف حقیر گردانتے ہیں، بلکہ ان کے عیوب تلاش کرنے اور ان کی نیکیوں کو کوئی دوسرا رخ دینے میں لگے رہتے ہیں۔
ایک دن میں ایک بے دین سے آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک اچھے خاصے دین دار شخص کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اس کی شرعی صفات کی وجہ سے اس کی تعریف کرنا چاہیے، لیکن جناب نے صرف اس بنا پر اس کو انتہائی برا کہا کہ اس نے اسے وعدے کے مطابق قرضہ واپس نہیں کیا تھا، جبکہ وہ بزعم خود اپنے آپ کو دین دار ٹھہرا رہا تھا، حالانکہ پرلے درجے کا بدعمل شخص تھا، آج کل اکثریت کا یہی رویہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10708»