الفتح الربانی
مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر— نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل
بَابُ هلاك كُلُّ أُمَّةٍ لَمْ تَقُمْ بِهَذَا الْوَاجِبِ باب: اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
حدیث نمبر: 9546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَدَعُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ ((إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتِ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رِذَالِكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ امور دکھائی دینے لگیں، جو بنو اسرائیل میں نمودار ہوئے تھے اور وہ یہ ہیں کہ جب بے حیائی بڑوں میں، بادشاہت چھوٹوں میں اور علم گھٹیا لوگوں میں آ جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تینوں نحوستیں امت ِ مسلمہ میں پائی جا رہی ہیں۔