حدیث نمبر: 9541
عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا قُلْتُ لَا حَدِّثْنِي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ دِرْعِي فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَتْ نَعَمْ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَتْ قَالَ ((إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ فَلَمْ يُتَنَهَّ عَنْهُ أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ)) قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ قَالَ ((نَعَمْ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ثُمَّ يَقْبِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ)) أَوْ إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حسن بن محمد کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری خاتون نے بیان کیا، وہ ابھی تک زندہ ہے، اگر تو چاہتا ہو تو میں تجھے اس کے پاس لے جاتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، بس تم مجھے بیان کرو، اس خاتون نے کہا: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، لیکن یوں لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پردہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ کلام کیا، لیکن میں نہ سمجھ پائی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیا تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی نہیں ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب زمین میں شرّ پھیل جائے گا اور پھر اس سے باز نہیں رہا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسی حالت میں کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میں نیکوکار بھی ہوں گے، لیکن لوگوں پر نازل ہونے والا عذاب ان کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بخشش اور رضامندی کی طرف لے جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ ممکن ہے کہ بعض نیک لوگ معذور ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں آ جانے کے باوجود اس کی بخشش کے مستحق ٹھہریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9541
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي ولاضطراب فيه، أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 747 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27062»