حدیث نمبر: 9539
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ قَالَ يَزِيدُ أَحْسِبُهُ قَالَ وَأَسْوَاقِهِمْ وَوَاكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطِرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بنو اسرائیل میں نافرمانیاں شروع ہوئیں تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں اور بازاروں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور داود علیہ السلام اور عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانوں کے ذریعے ان پر لعنت کی،یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس وقت کام بنے گا) جب تم ان کو حق کی طرف موڑو گے۔

وضاحت:
فوائد: … بہرحال اہل علم کو چوکنا اور متنبہ رہنا چاہیے، عوام اور معاشرے میں کسی برائی کے عام ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اہل علم بھی اس کے بارے میں غیر محتاط ہو جائیں۔
((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9539
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبدا لله بن مسعود، وشريك بن عبد الله سييء الحفظ، أخرجه الترمذي: 3047، وأخرجه بنحوه ابوداود: 4336، وابن ماجه: 4006 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3713»