الفتح الربانی
مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر— نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل
بَابُ وجوبهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ باب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9534
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ ثُمَّ لَا يَقُولَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ فَيَقُولُ رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ فَيَقُولُ وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ يُخْشَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھ لے کہ جب وہ ایسا معاملہ دیکھے، جس میں اللہ تعالیٰ کے لیے بات کرنا اس کی ذمہ داری بنتی ہو، لیکن وہ خاموش ہو جائے، پھر جب اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کس چیز نے تجھے اُس موقع پر بات کرنے سے روک دیا تھا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں لوگوں سے ڈر گیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اس چیز کا زیادہ حقدار تھا کہ مجھ سے ڈرا جاتا۔