حدیث نمبر: 9532
عَنْ أَبِي الرُّقَادِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا بِعَذَابٍ أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو رقاد کہتے ہیں: میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا، جبکہ میں لڑکا تھا، پھر جب مجھے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا تو وہ کہہ رہے تھے: بیشک ایک آدمی عہد ِ نبوی میں ایسی بات کرتا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، لیکن اب میں نے تمہاری مجلس میں وہی بات چار دفعہ سنی ہے، (سنو کہ) تم ضرور ضرور نیکی کا حکم کرو گے، برائی سے منع کرو گے اور خیر پر لوگوں کو ابھارو گے، وگرنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو عذاب سے برباد کر دے گا یا تمہارے بدترین لوگوں کو تمہارا حکمران بنا دے گے، پھر تمہارے نیکوکار لوگ اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے، لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔

وضاحت:
فوائد: … نیکی کا حکم نہ کرنا اور برائی سے منع نہ کرنا، یہ اتنا بڑا شرّ ہے کہ جس عہد میں یہ پایا جائے گا، اس وقت زمانے کے نیک لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
دراصل جس معاشرے میں نیکی کا حکم نہ دیا جاتا ہو اور برائی سے نہ روکا جاتا ہے، اس معاشرے کے افراد اتنے بے حیا، باغی اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم ہی نہیں آتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9532
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 44 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23701»