الفتح الربانی
مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر— نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل
بَابُ وجوبهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ باب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
عَنْ أَبِي الرُّقَادِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا بِعَذَابٍ أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ۔ ابو رقاد کہتے ہیں: میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا، جبکہ میں لڑکا تھا، پھر جب مجھے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا تو وہ کہہ رہے تھے: بیشک ایک آدمی عہد ِ نبوی میں ایسی بات کرتا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، لیکن اب میں نے تمہاری مجلس میں وہی بات چار دفعہ سنی ہے، (سنو کہ) تم ضرور ضرور نیکی کا حکم کرو گے، برائی سے منع کرو گے اور خیر پر لوگوں کو ابھارو گے، وگرنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو عذاب سے برباد کر دے گا یا تمہارے بدترین لوگوں کو تمہارا حکمران بنا دے گے، پھر تمہارے نیکوکار لوگ اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے، لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
دراصل جس معاشرے میں نیکی کا حکم نہ دیا جاتا ہو اور برائی سے نہ روکا جاتا ہے، اس معاشرے کے افراد اتنے بے حیا، باغی اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم ہی نہیں آتا۔