حدیث نمبر: 9527
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ (قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَحَدُ الرُّوَاةِ مِنْ أَدَمٍ) فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكُنْتُ مِنْ آخِرِ مَنْ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يُنْزَعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ (چمڑے کے) سرخ خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تقریبًا چالیس آدمی بیٹھے تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جمع کیا، جبکہ ہم چالیس افراد تھے، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے آخر میں آنے والا میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمھیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمھاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمتیں حاصل کرو گے۔ جو آدمی ایسا زمانہ پا لے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے رک جائے اور صلہ رحمی کرے۔ جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔ وہ آدمی جو کسی قوم کی غیر حق بات پر مدد کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنویں میں گرا دیا گیا اور پھر دم سے پکڑ کا کھینچا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ فاتحین کسی علاقہ کو فتح کرنے کے بعد اپنے آپ کو حدود و قیود سے آزاد سمجھ کر من مانیاں کرنے لگتے ہیں، لیکن اسلام نے مسلم فاتحین کو خیر و بھلائی کے امور کا پابند بنا دیا۔ قوم کی غیر حق بات پر مدد کرنے والے کی جو مثال بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص گناہ میں پڑا اور اس قدر ہلاک ہو گیا کہ اب اپنے آپ کو چھٹکارا بھی نہیں دلا سکتا۔ موجودہ دور میںاکثر لوگ انانیت و قومیت میں پڑ کر اس مثال کے مصداق بنتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9527
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح عند من يصحح سماع عبد الرحمن من ابيه مطلقا، أخرجه ابويعلي: 5304 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3801»