حدیث نمبر: 9526
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کو پہلے والے لوگوں کے اجر کی طرح ثواب دیا جائے گا، وہ برائی کا انکار کرتے ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ برائی کا انکار نہ کرنے میں سستی اور اسلامی حمیت کے کم پڑ جانے کا بھی دخل ہوتا ہے، لیکن اس معاملے میں اصل رکاوٹ لوگوں کا ظاہری مقام و مرتبہ ہے، ہم اس سستی کو شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں، جو دراصل ایسی بزدلی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسلام کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9526
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23568»