الفتح الربانی
مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر— نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَتَوَابٍ فَاعِلِهِ باب: اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى إِذَا رَمَى الثَّانِيَةَ عَرَضَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اعْتَرَضَ فِي الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ عَرَضَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ كَلِمَةُ حَقٍّ تُقَالُ لِإِمَامٍ جَائِرٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِي حَدِيثِهِ وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ لِإِمَامٍ ظَالِمٍ۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرے کو کنکریاں مار رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے جمرے کو کنکریاں ماریں تو پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بار بھی خاموش رہے اور جب آگے چلے اور تیسرے جمرے کے پاس پہنچے تو وہی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے حق کلمہ کہنا۔