الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ هَلِ الْأَفْضَلُ الْعَزَلَةُ عَنِ النَّاسِ أَوِ الْاخْتَلَاطُ بِهَمْ؟ باب: اس چیز کا بیان کہ لوگوں سے علیحدگی بہتر ہے یا ان میں گھل مل کر رہنا؟
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى عَنِ الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنْ بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً۔ سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ایک آدمی کا ایک نشیبی جگہ کے پاس سے گزر ہوا، وہاں پانی کا چشمہ بھی تھا، اسے خیال آیا کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں فروکش ہو جائے، یہ پانی اور اس کے ارد گرد کی سبزہ زاریاں اسے کفایت کریں گی۔ پھر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھوں گا، اگر آپ نے اجازت دے دی تو ٹھیک، وگرنہ نہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں فلاں نشیبی جگہ سے گزرا، وہاں کے پانی اور سبزے سے میری گزر بسر ہو سکتی ہے، مجھے خیال آیا کہ میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں بسیرا کر لوں، (اب آپ کا کیا خیال ہے)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہودیت اور نصرانیت لے کر نہیں آیا، مجھے نرمی و سہولت آمیز شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے راستے میں صبح کا یا شام کا چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور دشمن کے سامنے صف میں کھڑے ہونا ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔
رہبانیت: دنیا اور علائقِ دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل یا صحرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن ہو جانا۔ نصرانیوں نے یہ رسم نکالی تھی، جسے اسلام نے غلط قرار دیا۔
دین اسلام کی حفاظت وحمایت اور اللہ کے کلمے کی سر بلندی کیلئے باغیوں، سرکشوں، ملحدوں اور بے دین لوگوں سے لڑنے میں پوری جدوجہد کرنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے،یہ انتہائی باکمال اور باعظمت عمل ہے، حدیث ِ نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خاک آلود ہونے والے پاؤں آتشِ دوزخ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ (بخاری: ۲۸۱۱) اگر زندگی میں جہاد کرنے کا موقع مل جائے تو اسے سعادت اور خوش قسمتی سمجھا جائے وگرنہ کم از کم جہاد فی سبیل اللہ کی پختہ نیت رکھنا واجب ہے، موقع میسر آنے پر قطعًا گریز نہ کیا جائے، اسلامی زندگی اسی جذبۂ قربانی سے وابستہ ہے۔