الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِمَنْ فِي الْمَجْلِسِ باب: مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9503
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ (وَفِي لَفْظٍ) لَا يَتَسَارَّ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جب تین افراد ایک ساتھ ہوں یا ہم سفر ہوں، تو ایسے موقع و مقام پر تیسرے کو چھوڑ کر صرف دو افراد کا باہم رازدارانہ انداز میں گفتگو کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے کی دلآزاری ہوتی ہے یا وہ بدگمانی میں مبتلاہو جاتا ہے۔
ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔