الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَيْرِ الْمَجَالِسِ وَشَرَّهَا باب: بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
حدیث نمبر: 9494
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعث ِ حسرت ہو گی، اگرچہ وہ دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔