الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَيْرِ الْمَجَالِسِ وَشَرَّهَا باب: بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
حدیث نمبر: 9492
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالسیں امانت کے ساتھ ہوتی ہیں، ما سوائے تین مجلسوں کے، (۱) وہ مجلس جس میں حرام خون بہایا جائے، (۲) وہ مجلس جس میں حرام شرمگاہ کو حلال سمجھ لیا جائے اور (۳) وہ مجلس جس میں بغیر کسی حق کے مال کو حلال سمجھا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مجلسیں امانت ہی ہوتی ہیں، لیکن جب کسی مسلمان یا مجلس کے شرّ سے دوسرے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو پھر اس قدر راز کو فاش کرنا ضروری ہے کہ لوگوں کو اس نقصان سے بچایا جا سکے۔