الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَيْرِ الْمَجَالِسِ وَشَرَّهَا باب: بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
حدیث نمبر: 9489
عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْلِسَ بَيْنَ الضَّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں اور فرمایا: یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جب انسان کے بعض حصے پر دھوپ اور بعض پر سایہ پڑ رہا ہو تو وہ وہاں سے کھڑا ہو جائے اور مکمل سائے میںیا مکمل دھوپ میں بیٹھ جائے، کیونکہ اگر وہ وہیں بیٹھا رہا تو اس کے مزاج میں فساد آ جائے گا، کیونکہ اس کا جسم دھوپ اور سائے جیسی دو متضاد چیزوں کی لپیٹ میں ہو گا۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیٹھک سے منع کرنے کے لیے جو علت بیان کی ہے کہ یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے، اسی پر اکتفا کیا جائے۔ (عون المعبود)