حدیث نمبر: 9483
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ ((كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ)) فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو کو بخارتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس گئے اور فرمایا: کفارہ بننے والا ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ لیکن اس بدّو نے کہا: نہیں، بلکہ یہ بخار ہے، جو بوڑھے آدمی پر ابل رہا ہے اور اس کو قبریں دکھا رہا ہے، اس کی یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بدّو کی بے صبری اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی نہ ہونے کو ناپسند کیا اور چل دیئے۔ معلوم ہوا کہ مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہیے: کَفَّارَۃٌ وَطَھُوْرٌ (یہ بیماری گناہوں کا کفارہ بننے والی ہے اور پاک کرنے والی ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13651»