الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَلِمَاتٍ يُدْعَى بِهِنَّ لِلْمَرِيضِ وَكَلِمَاتٍ يَقُولُ هُنَّ الْمَرِيضُ باب: مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
حدیث نمبر: 9483
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ ((كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ)) فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو کو بخارتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس گئے اور فرمایا: کفارہ بننے والا ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ لیکن اس بدّو نے کہا: نہیں، بلکہ یہ بخار ہے، جو بوڑھے آدمی پر ابل رہا ہے اور اس کو قبریں دکھا رہا ہے، اس کی یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بدّو کی بے صبری اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی نہ ہونے کو ناپسند کیا اور چل دیئے۔ معلوم ہوا کہ مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہیے: کَفَّارَۃٌ وَطَھُوْرٌ (یہ بیماری گناہوں کا کفارہ بننے والی ہے اور پاک کرنے والی ہے)۔