حدیث نمبر: 9482
عَنْ أُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوِ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میت یا مریض کے پاس حاضر ہو تو خیر والی باتیں کیا کرو، کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی میت کے پاس رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے، لواحقین کو صبر کی اور جزع و فزع سے بچنے کی تلقین کی جائے اور مریض کے پاس شفا کی دعا کی جائے اور صحت و عافیت کی خوشخبری سنا کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
اس حدیث کا باقی ماندہ حصہ یہ ہے: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَۃَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((قُولِی اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً۔)) قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِی اللّٰہُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لِی مِنْہُ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ابوسلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو یہ دعا کر: اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا اچھا بدلہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے عوض ایسا بدلہ دیا، جو میرے لیے اس کی بہ نسبت بہت اچھا تھا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 919 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27275»