الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَلِمَاتٍ يُدْعَى بِهِنَّ لِلْمَرِيضِ وَكَلِمَاتٍ يَقُولُ هُنَّ الْمَرِيضُ باب: مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
حدیث نمبر: 9481
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ ((أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَذْھَبِ الْبَاْسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِیْ، وَلَا شِفَائَ اِلَّا شِفَاؤُکَ، شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے ربّ! بیماری کو دور کر دے اور شفا دے دے، بیشک تو ہی شفا دینے والا ہے، اور نہیں ہے کوئی شفا، ما سوائے تیری شفا کے، ایسی شفا عطا فرما، جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے)۔