الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي كَلِمَاتٍ يُدْعَى بِهِنَّ لِلْمَرِيضِ وَكَلِمَاتٍ يَقُولُ هُنَّ الْمَرِيضُ باب: مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
حدیث نمبر: 9480
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ فَيَسْأَلَ كَيْفَ هُوَ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کا مکمل طریقہیہ ہے کہ بندہ اپنا ہاتھ اُس کی پیشانییا ہاتھ پر رکھے اور پھر پوچھے کہ اس کا کیاحال ہے اور مکمل سلام یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیا جائے۔