الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عِبَادَةِ الْمَرِيضِ مُطْلَقًا وَثَوَابِ ذلك باب: مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9477
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((عَائِدُ الْمَرِيضِ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَرِكِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا وَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کرنے والا رحمت میں گھس جاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سرین پر رکھا اور فرمایا: آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی، پھر جب وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ادنی اور اعلی کا فرق اور ذاتی معرفت کی پروا کیے بغیر مسلمان بھائی کا حق سمجھ کر اس کی عیادت کریں۔