حدیث نمبر: 9473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ ((مَرِضْتُ فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ وَظَمِئْتُ فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ فَقُلْتُ أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ قَالَ يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُعَادُ فَلَوْ عَادَهُ كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُسْقَى فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں بیمار ہو گیا، لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی اور میں پیاسا ہو گیا، لیکن ابن آدم نے مجھے پانی نہیں پلایا، میں نے کہا: اے میرے ربّ! کیا تو بھی بیمار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا: زمین میں میرے بندوں میں سے ایک بندہ بیمار ہوا، لیکن اس کی تیمار داری نہیں کی گئی، اگر آدم کا بیٹا اس کی عیادت کرتا تو میرے لیے ہوتی، اسی طرح ایک آدمی کو پیاس لگی، لیکن اس کو پانی نہیں پلایا گیا، اگر اس کو پانی پلایا جاتا تو وہ پلائی ہوئی چیز میرے لیے ہوتی۔

وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تکالیف کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2569 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9231»