الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عِبَادَةِ الْمَرِيضِ مُطْلَقًا وَثَوَابِ ذلك باب: مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ ((مَرِضْتُ فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ وَظَمِئْتُ فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ فَقُلْتُ أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ قَالَ يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُعَادُ فَلَوْ عَادَهُ كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُسْقَى فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي))۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں بیمار ہو گیا، لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی اور میں پیاسا ہو گیا، لیکن ابن آدم نے مجھے پانی نہیں پلایا، میں نے کہا: اے میرے ربّ! کیا تو بھی بیمار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا: زمین میں میرے بندوں میں سے ایک بندہ بیمار ہوا، لیکن اس کی تیمار داری نہیں کی گئی، اگر آدم کا بیٹا اس کی عیادت کرتا تو میرے لیے ہوتی، اسی طرح ایک آدمی کو پیاس لگی، لیکن اس کو پانی نہیں پلایا گیا، اگر اس کو پانی پلایا جاتا تو وہ پلائی ہوئی چیز میرے لیے ہوتی۔