الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي زِيَارَةِ الصَّاحِبِ وَعِبَادَتِهِ إِذَا مَرِضَ باب: کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9468
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمارداری کی، وہ اتنی دیر جنت کے چنے ہوئے میوے میں رہا۔ کسی نے کہا: جنت کے خُرْفَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا چنا ہوا میوہ۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن ہمارے ہاں بڑی مصیبتیہ ہے کہ ہم تیمار داری اور عیادت جیسا عظیم حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کو بنیاد نہیں بناتے، بلکہ اپنے ذاتی تعلقات اور شخصی مراسم کو سامنے رکھتے ہیں۔ ہم اس شخص کی تیمارداری کرنے کے لیے جائیں گے، جس کے ساتھ ہمارا کوئی دنیوی تعلق ہے یا جو ہماری عیادت کرنے کے لیے آیا ہو گا یا جو مالدار ہو گا، ایسے تعلق کو مسکراہٹوں اور احسانات کا تبادلہ کہتے ہیں۔ بیچ میں للہیت کا فقدان ہے۔ ایسے لوگ شاذ و نادر ہیں جو اپنے بھائی کی تیمارداری کرنے کے لیے اسلام کو بنیاد بناتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انْطَلِقُوْا بِنَا إِلَی الْبَصِیْرِ الَّذِی فِی بَنِیْ وَاقِفٍ نَعُوْدُہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً أَعْمٰی۔ ہمیں اس صاحبِ بصیرت آدمی کے پاس لے چلو جو بنو واقف قبیلے
کا ہے، تاکہ ہم اس کی تیمار داری کر سکیں۔ اور وہ نابینا آدمی تھا۔ (أخرجہ أبوسعید بن الأعرابی فی معجمہ: ۱۳۳/۱، صحیحہ:۵۲۱)
بیمار آدمی کا حق ہے کہ دوسرے لوگ اس کی تیمار داری کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق ادا کرنے میں اعلی و ادنی اور امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں، نہ کہ مال ومنال اور اپنے دوستانہ جذبات کا، بیمار پرسی کرنا باعث ِ اجر و ثواب عمل ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انْطَلِقُوْا بِنَا إِلَی الْبَصِیْرِ الَّذِی فِی بَنِیْ وَاقِفٍ نَعُوْدُہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً أَعْمٰی۔ ہمیں اس صاحبِ بصیرت آدمی کے پاس لے چلو جو بنو واقف قبیلے
کا ہے، تاکہ ہم اس کی تیمار داری کر سکیں۔ اور وہ نابینا آدمی تھا۔ (أخرجہ أبوسعید بن الأعرابی فی معجمہ: ۱۳۳/۱، صحیحہ:۵۲۱)
بیمار آدمی کا حق ہے کہ دوسرے لوگ اس کی تیمار داری کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق ادا کرنے میں اعلی و ادنی اور امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں، نہ کہ مال ومنال اور اپنے دوستانہ جذبات کا، بیمار پرسی کرنا باعث ِ اجر و ثواب عمل ہے۔