حدیث نمبر: 9464
عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ قَالَ إِنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ السُّلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَسَةَ هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا كَذِبٌ وَلَا تُحَدِّثُنِيهِ عَنْ آخَرَ سَمِعَهُ مِنْهُ غَيْرُكَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَصَافَوْنَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو ظبیہ کہتے ہیں: شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم ایسی حدیث بیان کرسکتے ہو، جو تم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی زیادتی اور جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو، نیز تم نے وہ حدیث کسی اور آدمی سے بیان نہیں کرنی، جو اُس نے سنی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تحقیق میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی، جو میری وجہ سے آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، میری محبت کی وجہ سے ایک دوسروں کی زیارت کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، میری محبت میری وجہ سے خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری وجہ سے ایک دوسروں کی مدد کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19662»