الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ حُقوقِ الصُّحْبَةِ وَالْمُؤَاخَاةِ فِي اللَّهِ تَعَالَى باب: اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ النَّاسِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا (قَالَ حَمَّادٌ وَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ) وَمَا تَوَادَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَتَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِحَدَثٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ۔ بنوسلیط کے ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، حماد راوی نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا، جب دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور پھر ان میں تفریق پیدا ہو جاتی ہے تواس کا سبب گناہ ہوتا ہے، جس کا ان دو میں ایک ارتکاب کرتا ہے اور گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے۔