حدیث نمبر: 9462
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَكَانَ يَقُولُ لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ سِتٌّ يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ أَوْ يَشْهَدُهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ وَنَهَى عَنْ هِجْرَةِ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ہے نہ اس کو رسوا کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے، جب آپس میں محبت کرنے والے دو آدمیوں میں جدائی پیدا ہوتی ہے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے اس کے بھائی پر چھ حقوق ہیں، جب وہ چھینکے تو اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے، جب وہ غائب ہو یا موجود ہو، ہر صورت میں اس کی خیر خواہی کرے، جب اس کو ملے تو سلام کہے، جب وہ اس کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ کے لیے اس کے پیچھے چلے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ مسلمان اپنے بھائی کو تین دنوں سے زیادہ تک چھوڑ دے۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمانوں کو چاہیے کہ ان حقوق کی معرفت حاصل کریں اور صرف اسلام کے رشتے کا لحاظ کر کے ان کی ادائیگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9462
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5357»