حدیث نمبر: 9460
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ هَلْ أَعْلَمْتَهُ بِذَلِكَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَأَعْلِمْهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا هَذَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ (وَفِي لَفْظٍ) قُمْ فَأَخْبِرْهُ تَثْبُتِ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اس کو اس کے بارے میں بتلایا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو بتلا۔ پس وہ اس کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: وہ ذات تجھ سے محبت کرے، جس کے لیے تو نے مجھ سے محبت کی ہے۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو خبر دے، تاکہ تم دونوں میں محبت ثابت ہو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … جب کسی کو کسی سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے محبت ہو تو وہ اسے اطلاع دے دے تاکہ دوسرا شخص بھی آگاہ ہو جائے اور محبت دو طرفہ ہوجائے، درج ذیل حدیث میں اس حکم کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
علی بن حسین سے مرسلًا روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إذَا أَحَبَّ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فِی اللّٰہِ فَلْیُبَیِّنْ لَہُ فَاِنَّہُ خَیْرٌ فِی الْاُلْفَۃِ، وَأَبْقٰی فِی الْمَوَدَّۃِ۔)) … جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہو تو وہ اس پر واضح کر دے، کیوں کہ یہ وضاحت الفت میں بہتری اور محبت کو تادیر رکھنے والی ہے۔ (رواہ وکیع في الزھد ۲/۶۷/۲،صحیحہ:۱۱۹۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9460
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 571، والنسائي في عمل اليوم والليلة : 182 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13569»