الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ مَنْ أَحَبَّ إِنْسَانَا فَلْيُخْبِرْهُ باب: آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ هَلْ أَعْلَمْتَهُ بِذَلِكَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَأَعْلِمْهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا هَذَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ (وَفِي لَفْظٍ) قُمْ فَأَخْبِرْهُ تَثْبُتِ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اس کو اس کے بارے میں بتلایا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو بتلا۔ پس وہ اس کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: وہ ذات تجھ سے محبت کرے، جس کے لیے تو نے مجھ سے محبت کی ہے۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو خبر دے، تاکہ تم دونوں میں محبت ثابت ہو جائے۔
علی بن حسین سے مرسلًا روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إذَا أَحَبَّ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فِی اللّٰہِ فَلْیُبَیِّنْ لَہُ فَاِنَّہُ خَیْرٌ فِی الْاُلْفَۃِ، وَأَبْقٰی فِی الْمَوَدَّۃِ۔)) … جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہو تو وہ اس پر واضح کر دے، کیوں کہ یہ وضاحت الفت میں بہتری اور محبت کو تادیر رکھنے والی ہے۔ (رواہ وکیع في الزھد ۲/۶۷/۲،صحیحہ:۱۱۹۹)