حدیث نمبر: 9459
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَاسٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ انْعَتْهُمْ لَنَا يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا يَصْنَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا وَثِيَابَهُمْ نُورًا يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو!سنو، سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدائ، لیکن شہداء و انبیاء اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ دور والے لوگوں سے ایک بدّو آیا اور اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ڈالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لوگ ہیں، جو انبیاء ہیں نہ شہدائ، لیکن انبیاء و شہداء ان کی بیٹھکوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے قرب پر رشک کریں گے، ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ بدّو کے سوال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہیں، ان کی آپس میں رشتہ داریاں نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نور کے منبر بنائے گا، ان پر ان کو بٹھائے گا، ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور بنائے گا، لوگ قیامت کے دن گھبرائیں گے، لیکن وہ نہیں گھبرائیں گے، یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9459
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23294»